دنیا ھومیو پیتھی کی تاریخ کا خطرناک ترین 

 تجربہ اور تفصیل.

 ہومیو ڈاکٹر عابد راؤ

یہ بات میں نے چند ماہ قبل تحریر کی تھی اور آج اس کی تفصیل بیان کر رہا ھوں۔

ویسے تو میں 1990 میں ھومیو پیتھک کے سسٹم میں باقائدہ شامل ھوا

 لیکن اس سے پہلے میں ھومیو پیتھی کو تقریبن مکمل پڑھ چکا تھا اور ایک ھومیو پیتھ کی زیر نگرانی چند ایک کامیاب تجربات بھی کر چکا تھا

 اور ھومیو پیتھی کی حقیقت کو مکمل تسلیم کرنے کے بعد DHMS میں داخلہ لیا اور ان چار سالوں میں جتنا پڑھا جا سکتا تھا مطالعہ کیا اور شائد ھومیو کالجز کی ہسٹری میں کوئی ایسی مثال ملتی ھو کہ کسی نے چار سالوں کی کالج ڈے میں ایک بھی چھٹی نہ کی ھو۔

دراصل میں ھومیو کو پڑھنے نہی گیا تھا بلکہ سیکھنے گیا تھا۔

اپنی پڑھائی کے دنوں میں جو میڈیسن پڑھتا اگلے دن اس کو خریدتا اور اس کو ذاتی طور پر بغیر علامات و وجوہات کے خود ٹیسٹ کرتا اور محسوس کرتا۔

 اور 30 سالوں میں تقریبن 150 میڈیسن کے اثرات و احسات کو اپنے اوپر تجربات سے بخوبی جان چکا تھا۔


شدید ترین درد میں جہاں ایلوپیتھی فیل ھوچکی تھی ھومیو کی 1m.cm طاقتوں سے 3منٹ میں درد کو سکون دے کر ھومیوپیتھی کی حقیقت کی سچائی پر مہر لگائی۔

اور ڈاکٹروں کو ثابت کردیا کہ ھومیو پیتھی سب پر حاوی ہے۔

اکثر سوچتا ھوں جو لوگ ھومیوپیتھی کو پلاسبو سمجھتے ہیں

 وہ میرے سامنے ھوں اور ان کو فاسفوس 200 کی ایک خوراک ان لوگوں کا بہتا خون رکتا دیکھاوں جن کا خون پتلا ھونے سے کھبی ناک اور کبھی دوسرے کسی راستے سے بہتا ہی رہتا ہے 

اور وہ ساری زندگی خون گاڑھا کرنے کی میڈیسن کھانے پر مجبور ہیں۔

 ان لوگوں کو ھومیو پوٹینسی کی ایک ڈوز سے تگنی کا ناچ نچا کر دیکھاوں

اور بتاوں کہ ایٹم بن کا تجربہ کرنے والے بھی زندہ رہتے ہیں اور ثابت بھی کرتے ہیں کہ ایٹم بم کا جہاں تجربہ کیا جائے وہاں پہاڑ ریزہ ریزہ ھو جاتے ہیں.

 لیکن تجربہ کرنے والوں کو اللہ محفوظ رکھ لیتا ہے۔ 

تجربہ کرنے والے اگر یوں نہ ھوتے تو نہ ہنمن کی بات آپ تک پہنچتی اور نہ ڈاکٹر خان عبدالقدیر کے انٹرویوز آپ سنتے۔


آج بھی میرے گھر میں 10 ہزار سے زیادہ ھومیو میڈیسن موجود ہیں جن سے میں تجربات کا کھیل روز کھیلتا ہوں۔۔اور ان تجربات کے بعد اتنا نڈر ھو چکا تھا کہ اپنی جان جانے کا خوف تو دور کی بات اپنے آپ کو تکلیف پہنچنے کا بھی ڈر موجود نہی رہا تھا

 کیونکہ کئی بات تکلیف کے باعث موت کا خوف طاری ھونے اور ایکونائٹم نیپلس سے اس خوف کو دور کرنے کا عادی ھو چکا تھا۔

نیز یہ بھی عرض کروں کہ اپنی چار سالہ پڑھائی کے بعد بہت سے ایلوپتھک ڈاکٹرز بشمول پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں اور ڈائگنوزٹک سنٹروں سے بہت کچھ سیکھا۔

اور اس دوران ایی سی جی۔ ایکو۔ ای ٹی ٹی۔ سٹی سکین۔ سٹی اینجوگرافی۔ اینڈوسکوپی اور اس جیسے بہت سے مراحل سے عملی طور اپنے آپ کو گزارہ جس سے سیکھنے اور سمجھنے کا شوق بڑھتا ہی چلا گیا.

 ان 29 سالوں میں بہت عجیب و غریب تجربات ھوئے۔

لیکن ایک تجسس ابھی باقی تھا یوں تو ھومیو کی مدر ٹنچر سے لے کر پوٹینسی اور ہائی پوٹینسی کے اپنے اوپر کے علاوہ بے شمار پر عملی تجربات کر چکا تھا

 لیکن کچھ نیا کرنے کا ابھی جنوں باقی تھا جو اسی سال کیا

 اور یہ تجربہ میں سمجھتا ھوں ھومیوپیتھی کی پوری تاریخ میں کسی نے نہی کیا

 اور وہ خطرناک تجربہ

 وہ تھا جس کے رزلٹ کے اثرات کا تقریبن 6 ماہ کیا اور اب یقین ھونے کے بعد آپ سے شیئر کر رہا ھوں تاکہ ھومیو پیتھک کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے دلوں سے خوف نکال دوں اور ھومیو کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دوں۔

 اور وہ تجربہ یہ ہے کہ۔

میں نے بہت سوچ سمجھ کر اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر۔

 سورانیم cm۔ میڈورینم cm۔ سفلینیمcm۔ ٹیوبرکولینیم cm۔ بیسی لینیم cm۔ ٹائیفاڈینیم1m۔ انتھراکسینم1m۔ کارسینوسن1m۔ سٹرامونیمcm۔  

سب کو متواتر 4 دن کے وقفے کے بعد دوسری کو اور اس کے بعد 8 دن کے وقفے کے بعد تیسری کو براہ راست اپنی زبان پر ڈالا اور اگلے 72 گھنٹے اس کے اثرات اور احساسات کو محسوس کیا اور بہت کچھ وہ سیکھا جس کا کتابوں میں بہت کم درج پایا۔ 

اور ان میڈیسن کے بارے میں بہت کچھ تو میں نے اپنی سینکڑوں پوسٹوں میں بہت کچھ بتاتا رہتا ھوں۔

لیکن آج ایک بات پورے یقین اور تجربے کے بعد عرض کرتا ھوں کہ

نوٹ:...

 یہ تجربہ میں نے اپنا بیان کیا ہے۔ لیکن ہنیمن کا فلسفہ اپنی جگہ 1000 ہزار فیصد درست ہے اور وہی ہماری بیس اور میراث ہے

 اور ہم نے سب کچھ ہنیمن کے فلسفہ اور تجربات سے سیکھا۔

 ہم صرف موجود وقت کی ضرورت کے لیئے کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ ڈوبتی ھومیو کو پھر سے زندہ کر کے عملی طور پر منوا سکیں۔

اس تجربہ میں کوئی خاص مصیبت کا سامنا نہی کرنا پڑا سوائے معمولی سی ایگرویشن۔ وہ بھی کسی دوسری میڈیسن کی طرف اشارہ کے۔ یا ایک میڈیسن کے جس نے میرے جسم سے تمام پانی پسینہ بنا کر متواتر 2گھنٹے جاری رکھا۔ 

اور وہ بھی جبرانڈی مدر ٹینچر کے 20 قطرے استعمال کے بعد۔ 

البتہ اس تجربہ سے میرے جسم کے کئی چھوٹے چھوٹے مسائل بغیر مزید علاج درست ھو گئے۔ 

اب چند باتیں آپ کے روش گزار کرنا چاہتا ھوں جو میرے ذاتی تجربہ میں بار بار سامنے آئیں۔


1۔... میڈیسن کی جتنی پوٹینسی بڑی ھو گی وہ اتنی ہی کامیاب ھو گی اور اتنی ہی محفوظ اور بے زرر ھوتی ہے اگر وہ خطرناک اور نقصان دہ ھوتی تو شائد آج آپ سے بات کرنے سے پہلے مر چکا ھوتا۔


2۔... اور ایک اور بات خاص درج کرتا ھوں کہ جتنی ہائی پوٹینسی کرانک ڈیزیز میں عمدہ کام کرتی ہے اتنی ہی کامیابی سے اکٹیوٹ امراض میں کام کرتی ہے۔

کرانک ڈیزیز میں ہائی پوٹینسی کے بعد 3 دے 6 طاقت وہ c میں ھو یا x میں حل نہ ھونے والے کیسوں میں 99% کامیابی کی زمانت ہے۔


3۔... ایک ہی وقت میں کئی میڈیسن دینا ھومیو قانون کے خلاف ہے مگر ایمرجینسی کی صورت میں 3 سے پانچ منٹ کے بعد ایک بعد دوسری اور اسی طرح تیسری کئی میڈیسن دے کر ایمرجینسی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اور یہ سسٹم کو دنیا سے منوانے کا سبب بنتی ہے۔


اور یہ کہ تجربات۔ کی بات 100% درست لکھی گئی ہے۔

 اگر کوئی بھی شخص اگر چاہے تو کسی بھی سیمینار میں لوگوں اور میڈیا کے سامنے آپ کی اپنی لائی گئی سیلڈ بند پوٹینسی سے یہ تجربہ آپ کے سامنےکرنے کو تیار ھوں اور یہ ھومیو پیتھی کی تمام دنیا کو میرا چیلنج ہے جو چاہے جب چاہے میری بات کی حقیقت کو پرکھ سکتا ہے۔

میں نے بہت سی ان باتوں کے الٹ بھی تجربات کیئے ہیں جو کتابوں میں درج ہیں اور ان سے درست ھونے اور غلط ھونے دونوں باتیں سیکھیں ہیں۔

افسوس کہ ہماری حکومت نے سپورٹ نہ کیا ورنہ اس موجودہ مصیبت کے لیئے (نوسوڈ) ویکسین بنانا ہمارے الٹے ہاتھ کا چند منٹ کا کام ہے۔

آنے والے وقت کو اپنے تجربات اور ھومیو کی حقیقت اور میازم پر دنیا کی مختصر ترین بک لکھوں گا جو ہر ھومیو ڈاکٹر اور طلبا و طالبات اور عام آدمی کے لیئے ھومیو کے استعمال کو اتنا آسان بنا دے گی کہ جتنا کسی نے سوچا بھی نہیں ہے۔

انشااللہ۔

یہاں پر ایک بات اور درج کرتا ھوں جو لوگ ہر بات پر فتوی دینے بیٹھ جاتیں ہیں وہ ایسی باتیں نہ کریں۔

ھومیوپیتھی کچھ بھی کرنے کی طاقت رکھتی ہے بس اسے جاننے کی ضرورت ہے۔

میں نے ھومیو سسٹم میں حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے آنے والے والا وقت بتاتا سکے کہ کسی نے ھومیو کو زندہ کرنے کے لیئے عملی طور پعابد ھ۔

Comments